اڈپی27؍جون (ایس او نیوز) پیجاور مٹھ کے سری وشواتیرتھ سوامی کی جانب سے سری کرشنا مٹھ اڈپی میں کچھ دن پہلے مسلمانوں کو افطار کی دعوت اور نماز پڑھنے کی سہولت دینے پر مسلمانوں کے خلاف اپنی نفرت انگیزی کے لئے مشہور سری رام سینا چیف پرمود متالک غصہ سے آگ بگولہ ہوگیا ہے اور اس دعوت افطار کو پوری ہندو کمیونٹی کے لئے ہتک اور بے عزتی کاسبب قرار دیا ہے۔
اس مسئلے پرپرمود متالک نے اڈپی مٹھ پہنچ کر وشواتیرتھ سوامی سے بات چیت کی اور اپنا اعتراض جتاتے ہوئے" گائے ذبح " کرنے اور بیف کھانے والوں کو سری کرشنا مٹھ میں عزت کے ساتھ مدعو کرنے ، افطارکروانے اور مٹھ کے احاطے میں نماز اداکرنے کی سہولت فراہم کرنے کی کھل کر مذمت کی۔لیکن پتہ چلا ہے کہ سوامی جی نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ انہوں نے کسی بھی طرح ہندو دھرم اور عوام کی ہتک کا کوئی بھی کام نہیں کیا ہے۔بلکہ دعوت افطار کا اہتمام مسلمانوں کے ساتھ خیر سگالی کے جذبات کو فروغ دینے کے لئے ہندو دھرم کی بنیادی تعلیم اور روایات کے مطابق ہی کیا گیا ہے۔
ہندو سماج کی بے عزتی: پرمود متالک نے سوامی جی سے ملاقات کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے کہا کہ " گائے ذبح "کرنے والوں اور بیف کھانے والوں کو ہندو مٹھ میں دعوت دینا اور ان کا احترام کرنا دراصل گائے کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے والے ہندو لیڈروں کی بے عزتی کرنا ہے۔ اسے کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ اسے روکنا ہی ہوگا۔ ورنہ اس کے بعد آئندہ آنے والے دوسرے سوامی جی بھی اس روایت کو آگے بڑھائیں گے۔ متالک نے پوچھا کہ کیا کبھی کسی مسجد میں ہندوؤں کو گنیش اتسوا یا اُگادی کا تہوار منانے کا موقع دیا جاتا ہے؟ اس نے مزید کہا کہ اس مسئلے پر سوامی جی سے اس کی" بات چیت ناکام"ہوگئی ہے ،اس لئے اگلے کچھ دنوں میں سری رام سینا اپنی میٹنگ میں اس پر غور کرے گی اور آئندہ کے لئے لائحہ عمل طے کرے گی۔
کچھ لوگ رنجش پیدا کررہے ہیں: جبکہ سوامی جی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے فیصلے کوجائز قراردیتے ہوئے کہا کہ" مسلمانوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے۔ افطارپارٹی کی وجہ سے نہ مٹھ کو کوئی نقصان پہنچا ہے اور نہ ہی ہندو سماج کی بے عزتی ہوئی ہے۔ اس سے لوگوں کے دلوں میں محبت اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ فروغ پائے گا۔ مٹھ کی طرف سے ہمیشہ ہی ہندو مسلم اتحاد کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔جہاں تک نمازکی بات ہے وہ مندر کے اندر نہیں بلکہ عام کھانا کھانے کے کمرے (ڈائننگ ہال) میں ادا کی گئی تھی۔ کچھ لوگ خواہ مخواہ غیر ضروری بیانات دے کر ہندوؤں اور مسلمانوں میں رنجش پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔"
ہندو بھی بیف کھاتے ہیں : پرمود متالک کے اس اعتراض پر کہ بیف کھانے والوں کو مندر میں کیوں دعوت دی گئی اور ان کا کیوں احترام کیا گیا، سوامی جی نے پلٹ وار کرتے ہوئے سوال کیا کہ یہ بات بھی عام ہے کہ ہندو سماج کے بھی بہت سے لوگ بھی بیف کھاتے ہیں، تو کیا ہم ان کا بھی بائیکاٹ کریں؟ ایسا ہونہیں ہوسکتا۔ ہم تو بیف کھانے والوں کو صرف سمجھا سکتے ہیں کہ بیف نہ کھائیں۔ اس سے زیادہ ہم کیا کرسکتے ہیں!
رام سینا کو مایوسی ہوئی ہے : سوامی جی نے اڈپی مٹھ اور مسلمانوں کے تعلقات کے ضمن میں مزید بتایا کہ1904"میں ہمارے سینئر سوامی جی کو حاجی عبداللہ نے گھرپر بلاکر بہت سارے عطیہ جات دئے تھے۔سری مادھو اچاریہ کے مسلمانوں کے ساتھ بہترین تعلقات تھے۔قریب 800سال قبل منترالیہ مٹھ کی زمین ایک مسلمان سلطان کی طرف سے راگھویندرا مٹھ کے سوامی جی کو عطیہ کی گئی تھی۔اُتّر آدھی مٹھ کے ستیہ بھودا سوامی جی کے تعلقات بھی مسلمانوں کے ساتھ بہت ہی اچھے تھے۔بس انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے میں نے بھی مسلم سماج کے ساتھ اچھے تعلقات استوار رکھنے کی نیت سے اس افطار پروگرام کا اہتمام کیا تھا۔ مسلمانوں نے اپنے کئی پروگراموں میں مجھے مدعو کیا ہے۔ کئی مساجد کے افتتاح میں میں شریک ہوچکا ہوں۔بھٹکل ، کاسرگوڈ جیسے علاقوں اور ضلع شمالی کینرا کے کئی مقامات پر میرا پوری گرم جوشی سے استقبال کیا گیا ہے ۔میں اپنا ایک آزاد وجود رکھتا ہوں لہٰذاپرامن بقائے باہمی کے لئے مجھے جو اچھا اورصحیح لگا میں نے کیا۔ اور مجھے لگتا ہے کہ اس سے سری رام سینا کو مایوسی ہوئی ہے۔"